ایک فلم ہے In Time نام کی، یہ فلم مستقبل کے سال 2169 کا زمانہ دکھاتی ہے جب لوگوں کی مجموعی عمر فقط 25 سال ہوجاتی ہے۔عمر کا حساب رکھنے کے لیے ہر شخص کے بازو پر ایک گھڑی ہمہ وقت بندھی رہتی ہے جو، بتاتی ہے کہ آپ عمر کا کتنا حصہ گزار چکے ہیں اور باقی کتنے، مہینے، دن، گھنٹے اور سیکنڈ باقی ہیں. جو بھی شخص 25 ویں سالگرہ تک پہنچتا ہے اسے زندہ رہنے کے لیے مزید ایک سال ملتا ہے اور اگر اس دوران وہ اپنی عمر کو ری چارج کرتا ہے یعنی اگر وہ اپنی عمر کے بقیہ وقت میں مزید عمر کا کریڈٹ شامل کرتا ہے تو زندہ رہتا ہے ورنہ مرجاتا ہے ۔
مزید عمر کے لیے کوئی بھی شخص زیادہ عمر والے سے سودا کرکے عمر خرید سکتا ہے، یا پھر کوئی جرم کر کے کسی سے عمر چھینی جاسکتی ہے. خرید و فروخت کے لیے انسانی عمر ہی کرنسی کا درجہ حاصل کر لیتی ہے، اس کے بعد زندگی گزارنے کے لیے درکار تمام حاجتیں پوری کرنے کے لیے عمر کی نقدی خرچ کرنا ہوتی ہے ۔
مثال کے طور پر، جسے کوئی بھی چیز خریدنے کی ضرورت ہو اسے اس چیز کو حاصل کرنے کے بدلے میں تیس منٹ، ایک گھنٹہ، یا ایک دن ادا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے اس کے بازو پر لگی گھڑی سے کٹوتی کر لی جاتی ہے.
اس فلم کی کہانی عجیب ہے اور اس میں تقریباً چند ہی واقعات ہیں، لیکن اس میں ایک خوفناک اور حقیقت پسندانہ "پیغام" موجود ہے!
خوفناک مگر حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ لوگ اپنی عمر کی نقدی کو مادی اشیاء کے لین دین میں خرچ کرنے لگتے ہیں اور ایک دن چیزیں وہیں رہ جاتی ہیں مگر ان کی عمر ختم ہوجاتی ہے.
ایک سین میں دکھایا گیا ہے کہ ہیرو اسٹیشن پر اپنی ماں کا انتظار کر رہا ہے، اس کی ماں کے پاس عمر کا فقط ڈیڑھ گھنٹہ بچتا ہے، اور ہیرو چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس تک جلد پہنچے تاکہ وہ وہ اپنی ماں کی عمر ختم ہونے سے پہلے اسے مزید کچھ گھنٹے اور دن دے.
ماں بیٹے کے پاس جانے کے لیے بس میں سوار ہوتی ہے تو ڈرائیور کہتا ہے، میڈم، کرایہ آپ کی زندگی کے دو گھنٹے گزارنے کے برابر ہے۔
آپ کے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ ہے، اس لیے آپ کے پاس مطلوبہ کرایہ کم ہونے کی وجہ سے آپ یہ سفر نہیں کرسکتی. اس عورت نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو حیرت اور امید سے دیکھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس کی ختم ہوتی زندگی کی پرواہ نہیں کی، اور نہ ہی کسی نے اسے اپنی زندگی کے چند منٹ دیے۔
عورت نیچے اتر کر اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتی ہے.
دور سے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک دوسرے کی طرف بھاگے اس دوران زندگی کی گھڑی چل رہی ہے منٹ اور سیکنڈ خرچ ہو رہے ہیں اور جیسے ہی وہ ایک دوسرے کے قریب پہنچے اور اس نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا تو وہ اس کے بعد گر پڑی۔
وہ اپنی زندگی کے آخری سیکنڈ کو استعمال کرتے ہوئے مر جاتی ہے.
پوری فلم کا سب سے دردناک سین یہی ہے
کہ
بس میں موجود لوگ اس خاتون کی حیرانی اور بے بسی کو بے حسی سے نظر انداز کر دیتے ہیں ، حالانکہ کوئی بھی اسے اپنی زندگی کے چند منٹ دے سکتا تھا تاکہ وہ اپنے بیٹے سے بروقت مل کر مزید دس سال کے لیے عمر کی بیٹری ریچارج کرسکتی ۔
لیکن حقیقت میں آپ کو کوئی بھی اپنی زندگی کا ایک پل بھی نہیں دے سکتا..
ایک دن آئے گا آپ گر جائیں گے اور آپ کی بیٹری ختم ہو جائے گی
آپ اس کائنات کا مرکز ہیں، آپ کی زندگی نہایت قیمتی ہے، لہٰذا اپنی زندگی کا ایک سیکنڈ بھی فضول ضائع نہ کریں۔

Comments
Post a Comment