Description

Pak vs bangladesh Asia world cup 2023

 بدھ کو لاہور قذافی اسٹیڈیم میں ایشیا کپ کے سپر 4 کے میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف 24ویں اوور کے اختتام پر پاکستان کا سکور 105/2 ہے۔  پاکستان 194 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا ہے ۔پاک بمقابلہ بنگلادیش کپ: امام-رضوان جوڑی نے تعاقب جاری رکھتے ہوئے گرین شرٹس کو 100 سے اوپر لے لیا پاکستان کی اننگز   پاکستان کا تعاقب 16 ویں اوور تک جاری رہا لیکن فخر زمان اور بابر اعظم کے بغیر، جو ایک آن پوائنٹ تسکین احمد کے ہاتھوں غیر رسمی طور پر بولڈ ہو گئے۔  لیکن گرین شرٹس ابھی تک تعاقب میں ٹریک پر ہیں، امام الحق اچھی طرح سے سیٹل ہیں اور رضوان احمد ان کی جگہ کپتان ہیں۔  کیا پاکستان ایسی گیند کے ساتھ تعاقب کو برقرار رکھ سکے گا جو رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ زیادہ ٹرن کرتی ہے؟  اوور 16-20  تسکین نے بابر کو ایک ڈیلیوری سے ہٹا دیا جو کم رہی۔  قذافی سٹیڈیم کے ناہموار باؤنس نے دنیا کے نمبر ایک بلے باز کے لیے یہ کر دکھایا۔  رضوان بیٹنگ کے لیے اترے کے طور پر پیسر کی ج...

افسوس ھے تم پر اے غریب عوام

موجودہ ملکی صورتحال پر ایک نظر ناظرین جیسا کہ آپ واقف ھیں کہ ہمارے ملک پاکستان کہ روز بہ روز حالاتِ کشیدہ ہوتے جا رھے ھیں ایک طرف مہنگائی عروج پر ہے تو دوسری طرف سیاسی رہنماؤں کی فضول خرچیاں فضول پروٹوکول و عیاشیاں تاحال رکنے کا نام ہی نہیں لیتی ھر آئے روز عوام الناس پر کوئی نہ کوئی بوجھ ڈال دیا جاتا کبہی پیٹرول کی مد میں تو کبہی لائیٹ کی مد میں ویسے یہ بہی دیکہا جائے کہ اشیاء خوردونوش آسمان کی بلندیوں تک ریٹ جا چکے ھیں جو کہ عام دیہاڑی دار مزدور کی برداشت سے باہر ھوتے جا رھے گورنمینٹ سے کئی بار اعلان بہی ھو چکا کہ دیہاڑی دار مزدور کی اجرت ماہانہ 32000 ہزار ھوگی پر کیا اس پر عمل کیا گیا کوئی بہی پرائیویٹ ادارہ حکومت کے اس اعلان کو نہ تسلیم کرتا ھے بلکہ جوتے کی نوخ پر رکھ کر حکومتی اس فیصلے کو ان سنا کر دیا آج بہی مزدور طبقہ مفلسی و لاچاری کی زندگی گذارنے پر مجبور ھے چوک و چوراہوں پر ھزاروں مزدور ۔مزدوری کے لیئے بہٹک رھے ہیں افسوس کہ عام انسان کہ لیئے زندگی جینا اجیرن بنتی جا رہی ھے آج بہی مزدور طبقہ سے اسی ریٹ 500 پر ھی کام لیا جاتا ھے اگر نہ کرے تو چولہا کہاں سے جلائے غریب عوام انتہائی مشکلات کا شکار ھے اس صورتحال میں لاچار اور بے بس لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ھیں جیسا کے ھر حاکم کا اعلامیہ یہ ھی ھوتا کہ وہ آتے ھی غربت کو ختم کر دے گا یقینن جب اشیاء خوردونوش مہنگی سے مہنگی تر ھوتی جائے گی تو غریب عوام خودکشیاں یوں ھی کرتی رھے گی تو ضرور غربت کم ھی ھوتی رھے گی کیوں کہ جب غریب مرتے رھیں گے جب تمام غریب مر جائینگے بس صرف صاحب حصیت رھے جائینگے تو یقینن غربت ختم ھو جائے گی مگر سیاسی رہنماؤں کی عیاشیاں یوں ھی جاری رھیں گی ہمارا سوال اٹہانا حق پر مبنی ھے مگر اس میں کوئی اکیلا انسان یہ سوال کرے تو کوئی اہمیت نہیں ھوتی مگر یہ ھی سوال عوام الناس مل کر کرے تو یہ سوال وقت کو پلٹ سکتا ھے لاکہوں و کروڑوں غریبوں کا ھمدرد بن سکتا آج حکمرانوں پر کوئی عوامی پریشر نہیں ھے ھر ایک نے پنا اپنا ڈرا دہمکہ کر یا 2000 ھزار ماہانہ دے کر اپنا علائقہ خد کہ نام پر کیا ھوا ھے یا پہر ھر علائقہ میں بڑے بڑے ڈنگروں کو ٹکٹ دے رکہے ھیں جو یا خد کی دھشت سے ووٹ حاصل کرتے ھیں یا اپنے اثر رسوخ سے یا غریب عوام بلاوجہ تہانوں میں خد ڈلوا کر پہر خد ھی اس ایچ او جیسے بہتہ خوروں کو کال کر کہ چھڑا دیتے ھیں پہر ھوتا یوں ھے کہ علائقے کے وڈیرے سردار یا چودری نے ایک معمولی کام کرا دیا تو بندہ اس کا غلام بن گیا بڑی حیرت ھوتی ھے ایسے چند لوگوں پر جو 500 یا 2000 کہ لیئے اپنا ووٹ ۔۔مطلب اپنا ضمیر بیچ دیتے ھیں اور پہر سالہا سال ایسے وڈیروں چوہدریوں سرداروں جیسے ڈنگروں کہ وزیر یا ایم پی اے بن کر آنے بعد ظلم کی چکی میں پستے رہتے ھیں افسوس کہ پہر بہی سوال اٹہانے کی ہمت نہیں کرتے اور چپ چاپ جبر و ظلم برداشت کرتے رہتے ھیں ایسے لوگوں کی کم عقلی کا کئی دہائیوں سے سیاسی لیڈراں فائدہ اٹہاتے آئے ھیں ھر سال کہربوں کا بجیٹ پیش کیا جاتا ھے ھر اضلاع کو کروڑوں روپئے ملتے ھیں مگر جب کام پر نظر ڈالی جائے تو صفر ترقیاتی کام پر خرچہ نظر آتا ہے افسوس کہ پہر بہی یہ عوام نہیں سمجھتی کہ سہی حقداروں کو چنیں ایسے نہ سمجھ اور غلام لوگوں کی وجہہ سے غریب انسان کو بہت تکلیفیں اٹہانی پڑتی ھیں یہ ھی وجہہ ھے کہ دل اکتا جاتا ھے غم و درد سے دل بہر جاتا ھے آج ھر انسان کہ پاس نیوز پہنچ ھی جاتی ھے کہ باقی ممالک ترقی کر رھے ھیں مضبوط ھو رھے ھیں غربت کم ھوتی جا رھی ھے مگر پاکستان میں ھی کیوں غربت نے بسیرہ ڈال رکہا ھے کوئی بہی انسان خد کی بیوقوفی پر ایک بار بہی نظر نہیں ڈالتا کہ تم اپنے ووٹ سے منتخب کسے کیا ھے ایک عیاش و زانی اور ظالم کو منتخب کر کہ پہر اس سے بہلائی یا ملک کی ترقی کی امید رکہنا ناسمجہی والی بات ھے اس لیئے سہی حقداروں کو چنیں جو آپ کے زخموں پر مرہم رکھنے والے ہوں تاکہ آپ غربت کی لائن سے نکل سکیں

Comments