Description

Pak vs bangladesh Asia world cup 2023

 بدھ کو لاہور قذافی اسٹیڈیم میں ایشیا کپ کے سپر 4 کے میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف 24ویں اوور کے اختتام پر پاکستان کا سکور 105/2 ہے۔  پاکستان 194 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا ہے ۔پاک بمقابلہ بنگلادیش کپ: امام-رضوان جوڑی نے تعاقب جاری رکھتے ہوئے گرین شرٹس کو 100 سے اوپر لے لیا پاکستان کی اننگز   پاکستان کا تعاقب 16 ویں اوور تک جاری رہا لیکن فخر زمان اور بابر اعظم کے بغیر، جو ایک آن پوائنٹ تسکین احمد کے ہاتھوں غیر رسمی طور پر بولڈ ہو گئے۔  لیکن گرین شرٹس ابھی تک تعاقب میں ٹریک پر ہیں، امام الحق اچھی طرح سے سیٹل ہیں اور رضوان احمد ان کی جگہ کپتان ہیں۔  کیا پاکستان ایسی گیند کے ساتھ تعاقب کو برقرار رکھ سکے گا جو رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ زیادہ ٹرن کرتی ہے؟  اوور 16-20  تسکین نے بابر کو ایک ڈیلیوری سے ہٹا دیا جو کم رہی۔  قذافی سٹیڈیم کے ناہموار باؤنس نے دنیا کے نمبر ایک بلے باز کے لیے یہ کر دکھایا۔  رضوان بیٹنگ کے لیے اترے کے طور پر پیسر کی ج...

"""""❤️🌹🌹🌹ماں🌹🌹🌹❤️"""""""

 

✍️ایک عظیم رشتہ ✍️ ❤️""ماں""❤️
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیئے انتہائی پیار و شفقتوں سے سرشار ایک پہول🌹 تجویز و تیار کیا جس میں کائنات بہر کی خوشیاں ❤️محبتیں❤️اور احساس کی تمام نعمتیں عطا فرمائی اسے صبر و برداشت کے مظاہرے کا مینار بلند و بالا عطا فرمایا دنیا بہر کی رحمتیں اور نعمتیں اس ایک پہول 🌹 میں پیوند کر لی جہاں بہر کی خوشیاں لاتعداد دل کے کونے میں سما دی ناز و لاڈ کے دل و دماغ میں بیشمار ترتیبیں عطاء فرمائی ایک کہنکہناتی مٹی سے اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد کے لیئے ایسا عظیم و الیشاں اور اونچا مقام سے رونماء ایک ہستی کی پیوندکاری کر کے اسے نام
"""🌹❤️ماں❤️🌹""" دیا ماں محض ایک نام ہی نہیں بلکہ ایک "مرتبہ"ایک "عظیم رشتہ "ایک "احساس"شفقت"ناز و لاڈ "صبر و تحمل"برداشت "ایمانداری"سچائی "سکوں"جیسے تمام مرتبوں کا ایک گلشن ھے جو احساس پر آئے تو تمام دنیا بہر کے درد و تکلیفوں کا رخ خد کی طرف موڑ لے مگر اپنی اولاد پر آنچ تک نہ آنے دے خد لاکھ تکلیفات سے ڈٹ جائے پر اپنی اولاد کو ھر لمحہ سکوں کا سایہ بن کر چہپر و چہاء بنی رہتی ہے ایسا انمول تحفہ ""❤️ماں❤️"" کے روپ میں اللہ تعالیٰ رب العزت نے تمام اولاد کو عطاء فرمایا جس کی کوئی مثال نہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں اور بہی رشتے جوڑے "مثئلن""""بہین ""بہائی"" باپ""بیٹی""بیوی"" چاچا"چاچی "پہوپہا"پہوپہی "ایسے اور بہی رشتے ہمارے ساتھ رب العزت نے احساسات کے جوڑے مگر جو مقام و مرتبہ""❤️ماں❤️""کو عطاء کیا ویسے چاہتوں کے گلستاں کسی رشتے کو مختص نہ کیئے جو عظمتیں و مقام ""❤️ماں❤️"" کو ہی عطاء فرمائے آج یقینن ہم اولاد میں احساس کی کمی ہو چکی ھے مگر ماں کے دل میں برس گزر جانے کے بعد بہی اولاد میں وہی معصومیت محسوس کرتی ھے کبہی اسے بڑا تصور نہیں کرتی ماں کی نظر میں ھر اولاد ویسا ہی معصوم ہے جیسا کہ وہ اپنے آگوش میں لیئے دودھ پیاک بچے سا محسوس کرتی ھے بس ہم ہی نہ سمجھ ہیں جانے کیوں خد کو بڑا تصور کرنے کے فراق میں ماں کی حسرتوں کو روند دیتے ہیں ماں کی چہوٹی چہوٹی خواہشوں پر چڑ جاتے بہول جاتے وہ دن وہ راتیں جو تن تنہا ہمارے لیئے جاگ کر اپنی راتوں کی نیند ہم پر قرباں کر دی اپنا سارا سکوں اپنے سارے خوشیوں کے لمحات ہم پر نچہاور کر دیئے خد کی آنکہوں میں دو پل کی نیند کے خواب بہی ہماری خوشیوں کی خاطر ہماری تکلیفوں کی خاطر دیکہنا ھے بہول گئی ہماری ایک اونگ پر خد بادشاہ بن جایا کرتی تہی محض ہمارے روتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ لانے کو ہر وہ بات بنا وجوہات کے کہے کر چہاتی تہی کے میرا بچہ ہنس دے یوں ہی چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہی ماں کی تمام تہکاوٹیں شبنم کی بوندوں کی طرح بکہر جاتی تہیں تیری ایک پل کی مسکراہٹ میں اس ماں کے لیئے دنیا بہر کی خوشیاں سمٹی ہوئی ھوتی تہیں یہاں تک تیری پرورش کی لگن میں خد سجنا و سنورنا تک بہول گئی اس ماں کی دنیا بہی تم تہے اس کا سارا جہاں تجھ میں بستا تہا تجہے جو ایک پل نہ دیکہے تو اس ماں کی آنکہیں آنسوؤں سے بہر جائیں جب تو مل جائے تو یوں لپٹ جائے جیسے برسوں ھوئے ھوں تجھ سے بچہڑے ایسی تڑپ اٹہے جیسے پوری کائنات کہو بیٹہی ھو کیا وہ وقت وہ دن وہ پل وہ لمحے تم بہول گئے جو تیری ضرورتوں کو پورا کرنے کہ لیئے خد کی حسرتوں کا گلا گھونٹ دیا کرتی تہی مگر تجھ دنیا بہر کی خوشی دینے کو افضل سمجہا کرتی تہی جب تجہے کائنات سے متعارف کرانے کہ لیئے ہر پہلو پر نظر جمائے رکہا کرتی تہی کہ کہیں بہٹک نہ جائے جس نے تجہے جینے کا ہر فلسفہ سکہایا تیرے بولنے سے لے کر جینے کہ ہر انداز تک تجہے اپنے ساتھ رکہا یہ کام چند منٹوں یا لمحوں کا نہ تہا مدتیں لگی تیری پرورش میں آج سب وہ تم بہول گئے دنیا نے تجہے ایک معصوم سے پہول کو ماں کے لیئے پتہر دل بنا دیا وہ قراباتیں وہ تکلیفیں وہ راتوں کے ویران اندہیروں میں تیری پرورش کی سختیاں کیا تم بہول گئے جو آج چہوٹی چہوٹی باتوں پر ماں کے سامنے سر اٹہا کر چڑ جاتے ھو پہر کیا سمجھے ماں تجہے سوائے نافرماں کہ جس نے تم پر خد کے برسوں برباد کیئے آج وہ اس عظیم رشتہ سے خفا ھے اللہ تعالیٰ کو علم تہا کہ انسان خسارے میں ھے وہ احسان بہول جاتا اس لیئے ماں میں بیشمار برداشت و صبر مینار بلند رکہے ماں جیسا رشتہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک تحفہ کی مثل عطاء فرمایا ایک عظیم احسان فرمایا مگر آج ہم اس پروردگارِ عالم کے اس عظیم احسان کو سمجھ ہی نہ پائے جس نے اپنی ماں کو راضی اور خوش کرے رکہا یوں سمجھ لیں اس نے دنیا و آخرت خد کے لیئے سنوار دی
معزز قارئین :اپنی ماں کی خدمت کریں اسے خوش رکہیں بن مانگے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ماں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہا کریں کیوں کہ یہ ھی وہ راستہ ہے جو تمہیں تمہارے رب کے سامنے سرخروع کرے گا وسلام:قالم نگار "منظور علی نوتکانی

Comments

Post a Comment