Description

Pak vs bangladesh Asia world cup 2023

 بدھ کو لاہور قذافی اسٹیڈیم میں ایشیا کپ کے سپر 4 کے میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف 24ویں اوور کے اختتام پر پاکستان کا سکور 105/2 ہے۔  پاکستان 194 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا ہے ۔پاک بمقابلہ بنگلادیش کپ: امام-رضوان جوڑی نے تعاقب جاری رکھتے ہوئے گرین شرٹس کو 100 سے اوپر لے لیا پاکستان کی اننگز   پاکستان کا تعاقب 16 ویں اوور تک جاری رہا لیکن فخر زمان اور بابر اعظم کے بغیر، جو ایک آن پوائنٹ تسکین احمد کے ہاتھوں غیر رسمی طور پر بولڈ ہو گئے۔  لیکن گرین شرٹس ابھی تک تعاقب میں ٹریک پر ہیں، امام الحق اچھی طرح سے سیٹل ہیں اور رضوان احمد ان کی جگہ کپتان ہیں۔  کیا پاکستان ایسی گیند کے ساتھ تعاقب کو برقرار رکھ سکے گا جو رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ زیادہ ٹرن کرتی ہے؟  اوور 16-20  تسکین نے بابر کو ایک ڈیلیوری سے ہٹا دیا جو کم رہی۔  قذافی سٹیڈیم کے ناہموار باؤنس نے دنیا کے نمبر ایک بلے باز کے لیے یہ کر دکھایا۔  رضوان بیٹنگ کے لیے اترے کے طور پر پیسر کی ج...

ڈاکٹر روتھ فاؤ

10 اگست 2017 یوم وفات محسنہ پاکستان ڈاکٹر رتھ فاؤ جنہیں ان کے اپنے شہر سے باہر چھوڑ جاتے تھے ،لوگ آنکھیں ، منہ اور ناک لپیٹ کر ان کے قریب سے گزرتے تھے ، ایک خاتون نے پوری زندگی انہی گلے سڑے جسموں والے لوگوں کے درمیان ، ان کے زخم دھوتے ، ان کی خدمت کرتے ہوئے گزار دی۔پاکستانیوں کی اس محسن ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آج پانچویں برسی ہے. وہ ایک جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن تھیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ 9 ستمبر 1929 کو پیدا تو جرمنی میں ہوئیں لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے 57 سال پاکستان میں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیئے۔اس عظیم اور باہمت خاتون نے اپنی آنکھوں سے جنگ کی تباہ کاریاں دیکھیں اور آسمان سے گرتے گولوں میں اپنے اکلوتے بھائی کو مرتے دیکھا۔ جرمنی میں جنگ کی تباہ کاریاں دیکھتے ہوئے ڈاکٹر رتھ فاؤ نے شادی نہیں کی اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے لگیں۔بعد ازاں ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری‘ تنظیم نے انہیں اسائمنٹ پر بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا جہاں انہیں مدر ٹریسا سے ملاقات کرنا تھی لیکن ویزا نہ ملنے کے باعث انہیں مشورہ دیا گیا کہ آپ پاکستان چلی جائیں اور پھر وہاں سے بھارت نکل جائیں ۔ اس زمانے میں جرمنی کی سماجی تنظیم ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری‘ کراچی میں میکلوڈ روڈ (آئی آئی چندریگر روڈ) پر سٹی اسٹیشن کے قریب چھونپڑ پٹی میں 1955 سے چھوٹی سی ڈسپنسری میں کام کر رہی تھی۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ایک مرتبہ ڈسپنسری کا دورہ کرایا گیا تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان سے نہ رہا گیا کیوں کہ ڈسپنسری میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کا علاج صرف پٹیاں کرکے کیا جارہا تھا۔ ڈاکٹر رتھ نے جرمنی میں اپنی تنظیم کو لکھا کہ بھارت کے بجائے ان کا اصل کام پاکستان میں ہے اور وہ یہیں خدمات انجام دینا چاہتی ہیں اور یوں وہ پاکستان کی ہو کر رہ گئیں۔ پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے۔یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا۔ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھہ ، منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے ۔لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے، سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔ اُس وقت پاکستان میں کوڑھ کے مریض کو اچھوت سمجھا جاتا تھا تاہم ڈاکٹر رتھ فاؤ نے مسیحائی کا فرض ادا کیا اور اس کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔انہوں نے 1963 میں کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر کوڑھیوں کی بستی میں فری کلینک کا آغاز کیا۔ ‘میری ایڈیلیڈ لیپرسی سینٹر’ کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ بعد میں کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی کلینک قائم کیے گئے۔ پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی اسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سینٹر بھی قائم کیے۔ ملک میں کوڑھ کے مرض کے خاتمے اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر 1969 میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز ستارہ قائداعظم سے نوازا گیا جبکہ برطانوی میڈیا ایوارڈ باھب کا اعزاز بھی دیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ کی کوششوں کی بدولت 1996 میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ پاکستان سے کوڑھ کے مرض کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ان کی خدمات کے پیش نظر انہیں پاکستانی شہریت جاری کی گئی، لیکن ڈاکٹر رتھ نے شہریت لینے سے انکار کردیا کیونکہ وہ جرمن شناخت ہی چاہتی تھیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ مرجاؤں تو پاکستان میں دفنایا جائے۔ ملک بھر میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کے 157 سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں نہ صرف کوڑھ کے مریضوں بلکہ اندھے پن کے کنٹرول، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال اور تپ دق کے مریضوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ شدید علالت کے باعث 10 اگست 2017 کو بچھڑ گئیں لیکن ان کی خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں کوڑھ کے مرض کا تقریباً خاتمہ ہوچکا ہے اور ڈاکٹر رتھ ہی کی خدمات کی بدولت پاکستان کو ایشیاء میں سب سے پہلے اس مرض پر قابو پانے کا اعزاز حاصل

Comments